مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان میجر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایرانی فورسز کے قبضے میں آنے والے امریکی زیرِ آب ڈرون کی ریورس انجینئرنگ شروع کی جائے گی۔
ایک انٹرویو میں جنرل محبی نے حالیہ امریکی و اسرائیلی جارحیت کے دوران جدید امریکی فوجی سازوسامان کے مقابلے میں ایرانی مسلح افواج کی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ نے ثابت کیا کہ امریکی فوجی اور دفاعی صنعت میں استعمال ہونے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز ایران کے کنٹرول میں آئی ہیں۔
انہوں نے امریکی ایف 35 جنگی طیارے کو اس حوالے سے ایک نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طیارے میں جدید ٹیکنالوجیز استعمال کی گئی ہیں، جن میں جسم کے مرکبات، اسٹیلتھ صلاحیت، پرواز کی بلندی اور ہتھیار لے جانے کی صلاحیت شامل ہیں۔
سپاہ کے ترجمان کے مطابق ایف 35 میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجیز کے باوجود اسے سپاہ کی ایرو اسپیس فورس کے جدید فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔
جنرل محبی نے سپاہ کی بحریہ کے ہاتھ لگنے والے امریکی زیر آب ڈرون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں جدید ٹیکنالوجی موجود ہے اور اب اس کی ریورس انجینئرنگ شروع کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس مختلف اقسام کے جنگی، معاون، نقل و حمل اور جاسوسی طیاروں کے علاوہ مختلف نوعیت کے زیر آب اور بغیر پائلٹ کے بحری آلات بھی موجود ہیں۔
رائٹرز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس امریکی زیر آب ڈرون کے قبضے میں آنے سے ایران کو کوئی فیصلہ کن فوجی برتری حاصل ہونے کا امکان نہیں، تاہم یہ واقعہ واشنگٹن کی تکنیکی برتری کے تاثر کے لیے ایک مشکل صورتحال ضرور ہے۔
آپ کا تبصرہ